Ads
ا ب پ ت ٹ ث ج س I J K L M N O P Q R S T U V W X Y Z

Recently Lyrics Updated

ٹی وی پر چلنے والا ڈرامہ ”پری زاد“ صرف ڈرامہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا حقیقی چہرہ تھا۔ پری زاد ڈرامے کا ایک ڈائیلاگ مجھے حقیقت پہ مبنی لگا۔ ڈرامے کے ہیرو پری زاد سے ایک امیر کبیر خاتون کہتی ہے!
”سنو لڑکے یہ چہرہ، صورت ، شخصیت ہیں ناں یہ سب لوئر مڈل کلاس کے مسائل ہوتے ہیں۔ مرد کی صورت شخصیت اور وقار سب اس کے پیسے سے ہوتا ہے۔ جاو اس بے رحم دنیا میں جاو اور اپنے حصے کی دولت سمیٹ لو۔ خود کو اتنا امیر کرو یہ جو تمہاری شخصیت کے عیب ہیں ناں دنیا کو سٹائل لگنے لگیں۔ اور ہاں چھوڑو یہ شاعری واعری یہ سب بھرے پیٹ کے چونچلے ہیں۔ غریب کی شاعری دنیا کو فضول لگتی ہے اور مرد اگر امیر ہوتو دنیا کو اس کی گالی بھی شاعری لگنے لگتی ہے۔
"جب اشیاء کی افراط ہو جائے تو ان کی خاصیت میں ان کی ضد کا ظہور ہوتا ہے ؛ اللہ کی قدرت کی یہ بڑی عجیب بات ہے جس میں اہل عقل کی سوچیں گمراہ ہو گئی ہیں ؛ مثلاً جب برف کو کافی دیر تک جسم پر رکھا جائے تو وہ آگ کی طرح جلانے لگتی ہے ؛ فرحت کا زیادہ ہونا بھی انسان کو تباہ کر دیتا ہے جیسے کہ غموں کا انبار اسے مار ڈالتا ہے ؛ اسی طرح جب ہنسنے میں شدت آ جائے تو آنکھ سے رونے کی طرح آنسو بہنے لگتے ہیں ؛ بالکل اسی طرز پر آپ دو محبت کرنے والوں کو دیکھو گے کہ جب ان کی مصاحبت گہری اور ان کی محبت کامل ہو جائے تو وہ اکثر بے معنی باتوں پر لڑ پڑتے ہیں ۔ ان میں سے ایک ؛ جان بوجھ کر دوسرے کی بات سے اختلاف کرتا ہے اور اس کی رائے کے برعکس بیان دیتا ہے ۔عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی ان کا تضاد رہتا ہے ۔ اگر ایک کوئی بات کہے تو دوسرا اس کے لفظوں کی بعید تاویل کر کے ناراض ہو بیٹھتا ہے۔
لیکن اس محبت والی ناراضگی اور بغض و نفرت کی ناراضگی میں سب سے بڑا فرق جھگڑے کے بعد بہت جلد راضی ہونا ہے؛ آپ دیکھیں گے کہ دو اہل محبت کا کسی بات میں اختلاف حد کو جا پہنچا ہے اور ان کی اس ناراضگی پر انسانی فطرت کا انداز بھی یہی کہہ رہا ہو گا کہ ایک لمبی مدت تک ان کی صلح اور محبت بحال نہ ہو گی ، مگر پھر چند ہی ساعتوں میں آپ ایک عجب مشاہدہ کریں گے کہ سب کچھ بھول کر وہ دونوں تو پہلے سے زیادہ الفت سے آراستہ موجود ہیں۔ ایک ہی وقت میں ان کی صحبت پہلے جیسی خوبصورت ہے اور وہ لطیف نظروں کے اشارے لیے باہم پیار سے ہنس رہے ہیں؛(جیسے کہ کبھی ایک دوجے سے روٹھے ہی نہیں )
اگر کبھی تو دو انسانوں میں ایسا انداز دیکھے تو تجھے ہر گز کوئی شک اور وہم نہیں رہنا چاہیے کہ ان دونوں کے دلوں میں راز محبت دفن ہے جس سے وہ کبھی جدا ہونے والے نہیں!"

____امام ابن حزم رحمه الله تعالى/طوق الحمامة❤
چھ دن سے میرے کزن کی بیٹی اسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور کاٹتی ہے۔ 
بارہ سال کی بچی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو دیکھنے اسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کروا دیا ہے۔ ۔!!!
جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ !!!
ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ !!والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنی پھوپھو کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔ 
میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا، اسے پانی پلایا میں نے کہا مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز رہے گی۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی ۔!!
آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے، کہنے لگی پھوپھو کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جس کے گول گپے مجھے بہت پسند ہیں۔ 
میرا کزن اور میں ہم دونوں وہ کھانے کیلئے جاتے تھے میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا ضرور کروں گا۔
اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر گیا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے کے ساتھ سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا ۔ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے، باتوں باتوں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپوں کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔ 
گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔ 
اگلے دن رپورٹ آئی تو میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا،رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ میرا ایک لمحے کیلئے دم بند سا ہو گیا۔ 
میں نے فوراًاینٹی نارکوٹکس سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیاتو وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں ہیروئن گھول کر کھلا رہا تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔
 ان کو پکڑوا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔
یہ ایک سچا واقعہ تھا۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے۔ 
اسکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور اسکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے رہڑی والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں ۔ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔

میں نے بھی بلیو ایریا سے ایک ٹھیلے سے چائے پی تو مجھے بہت سکون محسوس ہوا. میں اگلے دن نمل سے پھر چائے پینے چلاگیا.مجھے مجھے احساس ہی نہیں رہا کہ میں تین ماہ تک چائے پیتا رہا پھر ایک رات نیوز دیکھی کہ مطلوبہ ٹھیلہ جس میں چائے پیتا تھا اس کو سیکیورٹی والوں نے دھر لیا ہے وہ چائے میں ڈوڈے وغیرہ ڈالتے تھے.. وہ لوگ اپنے منافع کے لئے لوگوں کی جان کھیل جاتے ہیں اللہ کریم انھیں ہدایت دے!
حکومت بے خبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ،گول گپے والاتو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔۔!!!
جاگتے رہیں ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔
#copied
ایک ٹرک ڈرائیوراپنے شاگرد کے ساتھ ایک ہوٹل پر رکا کھانا کھایا اور دو چرس کے سگریٹ پئے اور شاگرد کو بولا کہ چل تو بھی کیا یاد کرے گا آج ٹرک تم چلاّو، لیکن ٹرک چلانے سے پہلے ٹائر پانی چیک کر لو۔
شاگرد بہت خوش ہوا کہ آج ٹرک چلاوں گا، اس نے جلدی سے ریڈی ایٹر کا پانی چیک کیا، ٹائر کی طرف آیا تو دیکھا ٹائر پنکچر تھا، اس نے استاد کو ٹائر کے بارے میں بتایا، استاد نے کہا جلدی سے بڑا جیک لگاو اور ٹائر بدل دو اتنی دیر میں استاد نے دو اور چرس کے سگریٹ پئے، جب ٹائر بدل دئے تو استاد نے شاگرد کو کہا کہ میں اب تھوڑی دیر سونے لگا ہوں تم ٹرک چلانا شروع کر دو۔
کنڈکٹر کچھ جوش میں اور کچھ چرس کے نشے میں سپیڈ دئے جا رہا تھا، کافی دیر بعد جب استاد کی آنکھ کھلی تو اس نے کنڈکٹر سے پوچھا۔
ہاں بھائی کنڈکٹر کہاں پہنچے؟
کنڈکٹر بولا۔ استاد جی جگہ کا تو نہیں پتا لیکن میں کافی سپیڈ و سپیڈ جا رہا ہوں۔
استاد بولا۔ اچھا تم گاڑی سائیڈ پر روکو میں خود چلاتا ہوں۔ 
شاگرد نے ایکسلیٹر سے پاوں ہٹایا اور گاڑی روک دی، استاد نیچے اترا تو دیکھا سامنے ایک ہوٹل ہے۔ 
استاد نے ہوٹل والے سے پوچھا کہ بھائی یہ کونسی جگہ ہے؟
ہوٹل والا حیران و پریشان ان دونوں کو دیکھنے لگا اور بولا جناب آپ تو اسی جگہ پر ہیں جہاں سے آپ نے کھانا کھایا، ہم تو سمجھے شاید ٹرک میں کوئی خرابی ہے اس لئے ٹرک جیک پر لگا کر آپ ایکسلیٹر دئے جا رہے ہیں۔ 
یہی حال 74 سالوں سے ہمارے ملک کا ہے، اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر یہ ہوس کے پجاری حکمران اورــــــــــــ پاکستان کو ایسے ھی چلا رہے ہیں، نہ پاکستان آگے جاتا ہے اور نہ ہی ان جیسے نمک حراموں سے چھٹکارا ملتا ہے۔
‏زندگی میں کچھ پل ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتے،اپنی یاداشت سے مٹا نہیں سکتے۔
مجھے اختلاف ہے ان لوگوں سے جو کہتے ہیں
وقت ہر زخم کا مرہم ہے۔
چہرے پہ جھریاں، ہاتھوں میں رعشہ، لڑکھراتی زبان، مستقل ویل چیئر، ہر قسم کے وسائل کے باوجود بغیر کسی خوراک کے صرف ادویات پر گزارہ، کبھی اسکا پروٹوکول دنیا دیکھتی تھی، کل کا مرد آہن، آج کا بے بس و لاچاری کی تصویر، اسے کے ساتھی فصلی بٹیرے کبھی کا ساتھ چھوڑ کر کسی اور گاڑی کے مسافر بن چکے ہیں۔ یہ طاقت یہ اختیار انسان کے پاس عارضی ہے اور دوسروں کو اس سے سیکھنا چائیے . جب اختیار ھے تو کوئی ایسا کام کر جاو کہ دنیا تمھیں یاد رکھے۔
بائیس سال پہلے ٹی وی پہ نشر ہونے والا گانا دوستی جسے جواد احمد نے گایا تھا۔ اس گانے کے تین مرکزی کردار علی عارف۔عرفان چوہدری۔تیسرے کا نام معلوم نہیں۔ بہت خوبصورت عکاسی ۔ بہترین الفاظ پہ مبنی شاعری۔ گانے کا مرکزی خیال ان تین نوجوان فوجیوں کا آپس کا یارانہ تھا—